شاہِ ایران سرکاری دورے پر پاکستان آئے ہوئے تھے۔ جب ان کی واپسی کا وقت آیا تو صدر یحییٰ اپنے کمرے سے نہیں نکل رہے تھے۔ پروٹوکول کا بہت سنگین مسئلہ پیدا ہو گیا کیوں کہ کوئی ان کے بیڈ روم میں داخل ہونے کی جرات نہیں کر رہا تھا۔ سابق آئی جی پولیس سردار محمد چوہدری نے اپنی آپ بیتی ’جہانِ حیرت‘ میں لکھا ہے کہ ’آخر صدر کے ملٹری سیکریٹری جنرل اسحٰق نے اقلیم اختر رانی سے کہا کہ وہ اندر جائے اور صدر کو باہر لائے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو ملک کی ایک مشہور ترین گلوکارہ کو صدر کے رنگ رلیاں مناتے پایا۔ خود رانی کو اس منطر سے بڑی کراہت محسوس ہوئی۔ اس نے کپڑے پہننے میں صدر کی مدد کی اور بدقت تمام اسے باہر لائی۔‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’جہانِ حیرت‘ کے انگریزی روپ The Ultimate Crime: Eyewitness to Power Games میں تو چوہدری صاحب نے اس ’رنگ رلی‘ کی تھوڑی وضاحت بھی کی ہے، لیکن اردو میں گول مول کر گئے۔ خیر جو بات انہوں نے چھپا دی، ہم کیوں ظاہر کریں؟ دوسری بات یہ کہ انہوں نے ’مشہور ترین‘ گلوکارہ کا نام لکھنے سے گریز کیا ہے، لیکن اسی کہانی میں آپ نیچے چل کر دیکھیں تو شاید یہ معمہ حل ہو جائے۔ یہ اقلیم اخ...
ڈپٹی قائداعظم عمران خان 25 نومبر اور 5 اکتوبر، 1952ء کو لاہور میں پیدا ہوئے. آپ کے والد کا نام اکرام اللہ خان نیازی اور والدہ کا نام شوکت خانم تھا. آپ کے والد چمڑے کا کاروبار نہیں کرتے تھے. آپ پشتونوں کے مشہور قبیلے نیازی سے تعلق رکھتے تھے لیکن آدھے مہاجر بھی تھے. آپ اپنی چار بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے اس لیے انہوں نے آپ کو سلائی مشینیں چلا چلا کر پالا پوسا. آپ نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج اور کیتھیڈرل سکول سے حاصل کی. کیبل کالج سے معاشیات کی ڈگری اعلٰی چولوں سے پاس کی اور مزید اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن چلے گئے. 1977 میں لندن کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات کی ڈگری حاصل کرکے جلد ہی وطن یوٹرن لے لیا. آپ بچپن میں انتہائی حساس تھے. اپنے نحیف والد کو ایک بیسیویں گریڈ کی عام سی گورنمنٹ نوکری کرتے دیکھ کر کمرے میں چھپ چھپ کر روتے تھے. آپ کسی بھی طرح ان کا نام روشن کرنا چاہتے تھے لیکن یہ سب وزیراعظم بنے بغیر ممکن نہ تھا. ڈپٹی قائد کو بچپن سے ہی کرکٹ کا بہت شوق تھا لیکن آپ گلی میں کرکٹ کھیلتے لڑکوں کے چھوٹے چھوٹے بیکار چھکے اور الٹی سیدھی خراب باولنگ کو دیکھ کر دل ہی دل میں ...
ایک ملٹی نیشنل بینک کے سی ای او نے معاشی ماہرین کو اس وقت سوچ میں ڈال دیا جب اس نے کہا کہ: سائیکل ملکی معیشت کیلئے تباہی کا باعث ہے - اس لئے کہ سائیکل چلانے والا کار نہیں خریدتا وہ کار خریدنے کے لئے قرض بھی نہیں لیتا۔ کار کی انشورنس نہیں کرواتاپیٹرول بھی نہیں خریدتا۔ اپنی گاڑی سروس، مرمت کے لئے نہیں بھیجتا۔ کار پارکنگ کی فیس ادا نہیں کرتا۔ وہ ٹول پلازوں پر ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا۔ سائیکل چلانے کی وجہ سے صحت مند رہتا ہے موٹا نہیں ہوتا !! صحت مند رہنے کے باعث وہ دوائیں نہیں خریدتا۔ہسپتال اور ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتا۔ حتیٰ کہ ملک کے جی ڈی پی میں کچھ بھی شامل نہیں کرتا۔ اس کے برعکس ہر نیا فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ اپنے ملازمین کے علاوہ کم از کم 30 طرح کے لوگوں کے لئے روزگار کا سبب بنتا ہے۔ جن میں ڈاکٹر ، امراض قلب کے ماہر، ماہرِ معدہ و جگر، ماہر ناک کان گلہ، دندان ساز، کینسر سپیشلسٹ، حکیم اور میڈیکل سٹور مالکان وغیرہ شامل ہیں۔ چنانچہ یہ بات ثابت ہوئی کہ سائیکل معیشت کی دشمن ہے اور مضبوط معیشت کے لئے صحت مند افراد سخت نقصان دہ ہیں۔ نوٹ:- پیدل چلنے والے معیشت کےلئے اور بھی خطرناک ھیں۔ کیونکہ وہ سائ...
Comments
Post a Comment